بنگلورو،19؍مئی(ایس او نیوز) جس طرح نچلی عدالتوں میں تمام فیصلے علاقائی زبان کنڑا میں صادر کئے جارہے ہیں اسی طرز پر ہائی کورٹ میں بھی کنڑا میں فیصلے صادر کئے جانے چاہئے، اس سے انصاف کا تقاضہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی طرف رجوع ہونے والے مدعیان کو کافی سہولت ہوگی۔ یہ بات آج وزیراعلیٰ سدرامیا نے کہی۔ 2015-16 اور 2016-17 کے دوران کنڑا زبان میں فیصلے سنانے والے ہائی کورٹ ججوں کو اعزازات سے نوازنے کیلئے منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ میں کنڑا زبان میں فیصلے صادر کرنے میں جو تکنیکی رکاوٹیں حائل ہیں ریاستی حکومت ان سے بخوبی واقف ہے، اور انہیں دور کرنے کیلئے بھی دیانتدارانہ کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کیلئے ایک سافٹ ویر تیار کرنے اور دیگر منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے کنڑا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے جو بھی سفارشات حکومت کو دی گئی ہیں ان کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ کنڑا کرناٹک کے عوام کی زبان ہے، مدعیان اس زبان کو بآسانی سمجھ سکیں گے۔ ہائی کورٹ میں آنے والے مقدموں میں تقریباً 90 فیصد کنڑیگاؤں سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اسی لئے اگر کنڑا میں ہی فیصلے صادر کئے جائیں تو کافی سہولت ہوگی۔سدرامیا نے کہا کہ کنڑا ملک کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے جس کی دو ہزار سالہ قدیم تاریخ ہے۔اس قدر قدیم زبان کی ترقی کیلئے حکومت کی طرف سے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہاکہ کنڑا میں فیصلے صادر کرنے والے ججوں کو تہنیت پیش کرنے کے ساتھ آنے والے دنوں میں کنڑا زبان میں پیروی کرنے والے وکیلوں کی نشاندہی کرکے انہیں بھی اعزازات سے نوازا جانا چاہئے۔ آئندہ سال سے اس سلسلے میں کنڑا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کوکارروائی کرنے کی سدرامیا نے ہدایت دی ہے۔ سدرامیا نے کہاکہ بحیثیت وکیل عدالت میں انہوں نے بھی کنڑا میں پیروی کی ہے۔ اس موقع پر وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے کہاکہ ذیلی عدالتوں میں جو فیصلے صادر ہوتے ہیں اس کے خلاف تقریباً دس فیصد لوگ ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہیں ، اسی لئے نچلی عدالتوں میں کنڑا زبان میں فیصلے صادر کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ججوں کی بھرتیوں کے مرحلے میں ہی ریاستی حکومت کنڑا سے ان کی واقفیت کو ترجیح دیتی ہے۔اس موقع پر کنڑا میں فیصلے سنانے والے 69 ججوں 19؍ وکیلوں کو وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اعزازات اور دس ہزار روپے کی انعامی رقم پیش کی۔تقریب میں وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج، کنڑا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیرمین ایس جی سدرامیا، ہائی کورٹ کے جج اے ایس بوپنا اور دیگر موجود تھے۔